✍ شاعروں، ادیبوں کے لطیفے | مرتب : شاہد حمید
اگرچہ سہیل پرواز پَر نہیں رکھتے مگر قدرتِ زبان، انوکھی ترکیبوں، شگفتہ مزاجی اور دیوانگیٔ تخلیق کی طاقتِ پرواز رکھتے ہیں کیونکہ وہ ادب کے آسمان پر ایک شاہین کی مانند یُوں نمودار ہوئے ہیں کہ بقیہ چڑیاں وغیرہ اُن سے خوفزدہ ہو کر اس آسمان کو خالی کر گئی ہیں اور اب وہ اکیلے اڑانیں بھرتے ہیں۔ کاکول اکیڈمی کی دردناک بلکہ عبرتناک روداد بہت سوں نے قلمبند کی لیکن سہیل پرواز اپنے تخیل کے زور پر اُن سب سے ممتاز دکھائی دیتے ہیں۔ یوں تو جیسے عید کی سکرپٹ ایک ہی ہوتی ہے یعنی عید کی نماز، سِویّاں، عیدی اور تم گلے سے آملے اور سارا گلہ جاتا رہا وغیرہ
اے کمارے برہمچاری میں نے چوبیس برس تک برہمچریہ سیون کیا ہے ، میں اڑتالیس برس تک برہمچریہ سیون کئے ہوۓ سجنوں کی سبھا میں تجھ اڑتالیس برس تک برہمچریہ سیون کیے ہوۓ کو سوئیکار کرتی ہوں ۔
An eight-year-old is sent to live in a community of widows in India
۔۔۔۔ "شام بخیر" خودنوشت جس کا عنوان آبیل مجھے مار زیادہ موزوں رہتا ۔
Military, Civil Society And Democratization in Pakistan Quaid e Azam ✍ شاعروں، ادیبوں کے لطیفےPages: 218 Category: English Books, Political Books, Military Studies Using a political economy framework, this book examines issues related to the process of democratization, decentralisation, governance and civil society in Pakistan, in an historical and contemporary context. The book highlights social and structural transitions and transformations in economy and society, and shows how the emergence of new socio economic groups and classes often