Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN525.00 PLN562.00

Pay in 4 interest-free payments of $131.25 Learn more

Tarar Nama 3 - تارڑ نامہ 3 ambur bail •And MUCH More

SKU: 82525068732
4.4

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 15 - Aug 20

Description

•And MUCH More

Here are just a few of the things you will learn:

،خوں چکاں اور ناانصافی پر بھی یہ ہماری کہانی ہے۔ کم زوروں کو ستانے ،قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے  قصے دہشت گردی کے واقعات جو پشاور میں سکول کے بچوں اور استانیوں کے قتل عام پر ختم ہوتے ہیں ۔ ہم لوریاں  سنا کر اپنے ضمیر کو سلانا چاہتے  ہیںلیکن یہ لوریاں وقتاََفوقتاََ عفریتوں کے قہقہوں میں بدل جاتی ہیں۔ یہ فردِ جرم ہے جو مستنصر نے دکھی ہو کر لکھی ہے۔ یہ ناولت آئینہ ہے۔ اس میں گر اپنی صورت ٹیڑھی میڑھی نظر آتی ہے تو سوچنا چاہیے کہ ہمیں اپنا آپ بدلنے کی کتنی ضرورت ہے۔ آئینہ اٹھا کر پھینک دینے سے حقائق نہیں بدلا کرتے۔

اُردو ناول میں پنجاب اپنی تاریخ و تہذیب کے ساتھ مختلف سماجی طبقوں، علاقائی روایات اور زرعی بُو باس و متنوع پہلوؤں کے ساتھ، تفصیل میں دریافت ہو چکا ہے لیکن کسی ناول نگار نے بھولی بسری قومیتوں، نظر انداز کیے گئے قبیلوں اور زندگی کی لکیر کے نیچے دبے ہوئے انسانوں، نسلوں، ذاتوں اور اُن کی بولیوں کے ساتھ اُن کے رسوم و رواج کو جڑوں کے ساتھ کھوجنے کی وہ کوشش نہیں کی جو ناول نگار طاہرہ اقبال نے کی ہے۔ مشترکہ ہندوستان کے پنجاب کا ماضی اور تاریخ اپنی تہ دار پرتوں اور انسانی تجربوں کے لامحدود زاویوں کے ساتھ صرف طاہرہ اقبال کے ناولوں ہی میں ظاہر ہو سکا ہے۔ ’’نیلی بار‘‘ اور ’’گراں‘‘ کے بعد اب وہ ہڑپا تہذیب میں شامل انسانی زندگی کے تحرک کو زبان، سماج، روایات اور مزاج کے ساتھ دریافت کرنے کا تجربہ کر رہی ہیں۔ ’’ہڑپا‘‘ میں محض ایک علاقے کی دنیا کے کردار اپنی جڑوں کے ساتھ دریافت نہیں ہوئے۔ یوں سمجھیں کہ ’’ہڑپا‘‘ پنجاب کا بحرِ بیکراں ہے جہاں تاریخی جدلیات انسانی رشتوں کے خمیر میں جس طرح جاگزیں ہے اُس کی خبر طاہرہ اقبال لے کر آئی ہیں۔ طاہرہ اقبال واحد ناول نگار ہے جو تحقیقی مطالعے کے زعم میں ناول نہیں لکھتیں۔ بہت سے ناول نگار گلبرگ میں بیٹھ کر بھولی بسری اور متروک تہذیبوں پر کی گئی تحقیق کے زور پر ناول لکھ کر نامور ہو جاتے ہیں، جبکہ طاہرہ اقبال کے آبا و اجداد اور اُس پر وہ تہذیب گزری ہے، اُس نے اُس میں سانس لے رکھا ہے۔ اُس میں زندہ ہے اور یہی اُس کی تخلیقی سچائی ہے۔ ’’ہڑپا‘‘ کی دنیا محدود نہیں ہے، وہ ہزاروں سال کی برصغیر کی تاریخی جدلیات میں ایسے شامل ہو جاتی ہے جیسے زیرِ زمین دریا آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ طاہرہ اقبال نے پنجاب کی رہتل اور اُس میں آباد انسانوں میں عورت کو جس رنگ روپ میں دیکھا ہے، ایسے دہلی، لکھنؤ اور حیدرآباد کی عورت کو کوئی ناول نگار نہیں دیکھ سکا۔ اگرچہ قرۃ العین حیدر، واجدہ تبسّم اور عصمت چغتائی جزوی طور پر اپنے اپنے علاقوں سے انصاف کر سکی ہیں مگر طاہرہ اقبال کا دائرہ بہت پھیلا ہوا ہے۔ اصغر ندیم سید

•Personal Strategic Planning

Tarar Nama 3 - تارڑ نامہ 3 ambur bail •And MUCH MorePages: 344 Category: Urdu adab , Essays

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products