Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
USD350.00 USD376.00

Pay in 4 interest-free payments of $87.50 Learn more

Shehr e Tamsal Dar - شہر تمثال دار mehmood sham books Majid Sheikh in his writings

SKU: 8126198751
4.9

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Description

Majid Sheikh in his writings on the people

Showing the importance of Ibn ‘Arabi’s devotional teaching

Translated By Khalid Mehmood Advocate

اتہاسک لاہور میں اُن شخصیات کا تذکرہ ہے جو اُردو ادب میں گراں قدر خدمات انجام دے چکی ہیں اور وفات کے بعد جن کی جائے مدفون کا اعزاز لاہور کے قبرستانوں کو حاصل ہوا۔ صرف اُردو زبان کے حوالے سے اس شہر میں بے شمار قد آور شاعر، ادیب اور صحافی مدفون ہیں ۔ اُن تمام مشاہیر کا احاطہ کرنے کے لیے شاید اس طرح کی دس کتب بھی کم ہوں ۔ اُن میں سے چنیدہ شخصیات کو اس کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ وہ شخصیات جو اس کتاب کا حصہ نہیں، وہ کسی طور بھی کسی سے کم تر ہیں۔ ہر ادیب، شاعر اور صحافی کا ایک اپنا خاص طرز تحریر اور طرز بیان ہوتا ہے۔ حضرت انسان کی تاریخ میں کوئی ایسی کسوئی ایجاد نہیں ہوئی جو تحریروں کے معیار کو جانچ سکے۔ تاریخ اس بات کی بھی شاہد ہے کہ چشم فلک نے کئی ایسے عظیم شعرا اور ادبا کو دیکھا جنھیں اُن کے اپنے عہد میں کوئی خاص پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔ لیکن اُن حضرات کی زندگی کے بعد جب اُن کے کام کو از سر نو دیکھا گیا تو وہ ادب کی عمارت کے مضبوط ترین ستون دکھائی دیے۔ اس حوالے سے انگریزی زبان کے شاعر جان کیٹس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ غور کیجیے تو تاریخ میں کئی ایسے درباری شاعر اور ادیب بھی دکھائی دیے جو شاہ کے مصاحب تھے اور اپنے عہد کے بڑے نام لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی پہچان ختم ہوتی گئی ۔ زیر نظر کتاب کی تحقیق و تحریر میں سب سے پہلا اور اہم ترین پہلو یہ ہے کہ کئی ایسے عظیم لوگ جن کا بے پناہ اعلیٰ درجے کا کام موجود تھا، تقسیم کے بعد وہ کس طرح نئی نسل اور آنے والی نسلوں کی نظروں سے اوجھل ہوتے گئے ۔ ہمارے ہاں ایسے طلبا کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو کہ ڈگری یافتہ ہے لیکن وہ محمد دین تاثیر اور اختر شیرانی جیسے ناموں سے نابلد ہے۔ اس کتاب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہماری نصابی کتب میں اکثر جگہوں پر یہ تحریر واضح طور پر ملتی ہے کہ جنگ آزادی یا غدر کے بعد مسلمانوں پر جدید تعلیم اور ترقی کے دروازے بند کر دیے گئے ۔ جب اُردو ادب کی تاریخ کو دیکھا جائے اور خصوصاً انیسویں اور بیسویں صدی کے ادب پر توجہ مرکوز کی جائے تو یہ سوال اپنی جگہ آن کھڑا ہوتا ہے کہ انگریز سرکار ہی کے عہد میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان شاعر، ادیب حضرات کہاں سے آگئے ۔ کئی ایسے خاندان بھی دکھائی دیتے ہیں جن کا پس منظر انتہائی پڑھا لکھا تھا۔ منٹو کے خاندان کو بیرسٹرز کا خاندان کہا جاتا تھا۔ سید لطیف کے خاندان کو آج بھی جوں کے خاندان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ سب سے اہم ترین شے مسلمانوں کا عمومی رویہ تھا۔ اس ضمن میں میں کچھ حوالہ جات ایک مسلمان انڈین سول سرونٹ شوکت علی شاہ کی آپ بیتی خیال پور کا آدم خور سے پیش کر رہا ہوں جو رہا۔

عامرخاکوانی کی تحریروں میں آپ کو کبھی بھی منفی خیالات نہیں ملیں گے۔ مثبت خیالات کا حامل انسان اور لکھاری، اِسی لیے نوجوانوں کی بڑی تعداد ان کو پڑھتی ہے اور بحث کرتی ہے۔ عامر نے ہی سوشل میڈیا پر ایک نیا ٹرینڈ دیا کہ اپنے قارئین سے گفتگو شروع کی۔ سخت باتوں اور بعض دفعہ نازیبا جملوں کا تحمل سے جواب دیا۔ عامر کے پاس لکھنے کو بہت کچھ ہے۔ ایسی روانی اور لاجک بہت کم لکھاریوں کی قسمت میں ہے۔ آپ ان سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن تیار رہیں وہ اس کا جواب بھی شاندار لاجک سے دیں گے۔ کتابوں کے بے پناہ مطالعے نے انہیں بہت کچھ دے دیا ہے۔ انھوں نے اپنےکالموں میں جتنے تراجم اور کتابوں کے ریویوز لکھے ہیں، وہ کسی اور کالم نگار کی قسمت میں نہ تھے۔ پاکستان کے چند پڑھے لکھے کالم نگار جو کتاب پڑھتے ہیں ان میں عامر خاکوانی کا نام اوپر ہے۔

Shehr e Tamsal Dar - شہر تمثال دار mehmood sham books Majid Sheikh in his writingsPages: 508 Category: Novel

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products